Wednesday, 11 February 2015

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرئہ فال میرے نام کا اکثر نکلا

تھا جنھیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

میں نے اس جانِ بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول مری شاخِ ہُنر پر نکلا

شہر والوں کی محبّت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

تُو یہیں یار گیا ہے میرے بُزدل دُشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل ترا لشکر نکلا

میں کہ صحرائے محبّت کا مسافر تھا فراز
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا

احمد فراز

No comments:

Post a Comment