Thursday, 12 February 2015

یاد رکھنا ہماری تُربت کو

یاد رکھنا ہماری تُربت کو
قرض ہے تم پر چار پھولوں کا

ساغر صدیقی

Wednesday, 11 February 2015

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرئہ فال میرے نام کا اکثر نکلا

تھا جنھیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

میں نے اس جانِ بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول مری شاخِ ہُنر پر نکلا

شہر والوں کی محبّت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

تُو یہیں یار گیا ہے میرے بُزدل دُشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل ترا لشکر نکلا

میں کہ صحرائے محبّت کا مسافر تھا فراز
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا

احمد فراز

یہ دشتِ درد ہے خاور یہاں سبیل کہاں

یہ دشتِ درد ہے خاور یہاں سبیل کہاں
سمندروں کا سفر ہو تو سنگِ میل کہاں

خاور احمد

یہ سرد رات ، یہ آوارگی ، یہ نیند کا بوجھ

یہ سرد رات ، یہ آوارگی ، یہ نیند کا بوجھ
ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

امید فاضلی

وقتِ رخصت وہ چُپ رہے عابد

وقتِ رخصت وہ چُپ رہے عابد
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل
عابد علی عابد

گھر میں یوں تو کیا رکھا ہے لیکن آو تلاش کریں

گھر میں یوں تو کیا رکھا ہے لیکن آو تلاش کریں
شائد کوئی خواب پڑا ہو ادھر اُدھر کسی کونے میں

رئیس فروغ

یہی اندازِ دیانت ہے تو کل کا تاجر

یہی اندازِ دیانت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لئے دھوپ میں بیٹھا ہو گا

انور مسعود

مجھے پسند نہ تھے ڈوبتے ہوئے تارے

مجھے پسند نہ تھے ڈوبتے ہوئے تارے
میں سو گیا کہ مجھے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا

شہزاد احمد



تو ہی رہتا ہے دیر تک موجود

تو ہی رہتا ہے دیر تک موجود
بزم میں تو جہاں سے اُٹھتا ہے

تابش دہلوی

ہاتھ کانٹوں سے کر لئے زخمی

ہاتھ کانٹوں سے کر لئے زخمی
پھول بالوں میں اک سجانے کو

ادا جعفری

جس دن سے اپنے چاکِ گریباں کا شور ہے

جس دن سے اپنے چاکِ گریباں کا شور ہے
تالے لگا گئے ہیں رفوگر دکان کو

احمد جاوید

صبح تک کیا کیا تری امید نے طعنے دئیے

صبح تک کیا کیا تری امید نے طعنے دئیے
آ گیا تھا شامِ غم اک نیند کا جھونکا مجھے

سیماب اکبر آبادی

قریب آ کہ سَجا لوں تری قَبا پہ انہیں

قریب آ کہ سَجا لوں تری قَبا پہ انہیں
مری مژہ پہ ستارے بِکھرنے والے ہیں

محسن نقوی

میں تری تعمیر کا مُنکر نہیں لیکن مجھے

میں تری تعمیر کا مُنکر نہیں لیکن مجھے
اِک مکاں ایسا بنا دے جس میں دروازہ نہ ہو

محسن نقوی

یوں غم دے کہ دنیا کو بھی اندازہ نہ ہو

یوں غم دے کہ دنیا کو بھی اندازہ نہ ہو
اِس طرح پانی میں پتّھر پھینک آوازہ نہ ہو

محسن نقوی

اُن کی آنکھوں کی مَستیاں مَت پُوچھ

اُن کی آنکھوں کی مَستیاں مَت پُوچھ
میکدے ڈوب ڈوب جاتے ہیں

محسن نقوی

بڑھ رہے ہیں جو اِس قدر سائے

بڑھ رہے ہیں جو اِس قدر سائے
روشنی ساتھ چل رہی ہو گی

محسن نقوی

موت جب چال چل رہی ہو گی

موت جب چال چل رہی ہو گی
زندگی ہاتھ مَل رہی ہو گی

محسن نقوی

میں وہ محروم کہ جیسے کوئی ویرانہ ہو

میں وہ محروم کہ جیسے کوئی ویرانہ ہو
تو وہ خوش فہم ' خرابوں سے خزانے مانگے

احمد فراز

موت کا وقت معین ہے تو پھر بات ہے کیا

موت کا وقت معین ہے تو پھر بات ہے کیا
کون ہے مجھ میں جو ہر سانس پہ مر جاتا ہے

عبد اللہ جاوید

مجھے دیکھنا ہو جس کو مرے حال پر نہ جائے

مجھے دیکھنا ہو جس کو مرے حال پر نہ جائے
مرا ذوق و شوق دیکھے مِرا انتخاب دیکھے

جمیل ملک

غمِ دنیا میں غمِ یار بھی شامل کر لو

غمِ دنیا میں غمِ یار بھی شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

احمد فراز

ڈسنے لگی ہیں ہم کو زمانے کی رونقیں

ڈسنے لگی ہیں ہم کو زمانے کی رونقیں
ہم جُرمِ عاشقی کے سزاوار کیا ہوئے

ظھیر کاشمیری

ذرا سی بات پہ دامن چھڑا لیا ہم سے

ذرا سی بات پہ دامن چھڑا لیا ہم سے
تمام عمر کی وابستگی کو بھول گئے

احمد ظفر

کنکر پڑے تو جاگ اُٹھا آواز کا بھنور

کنکر پڑے تو جاگ اُٹھا آواز کا بھنور
ورنہ اُداس جھیل کا پانی خموش تھا

محسن نقوی

میری رسوائی سے کہنا دوستو

میری رسوائی سے کہنا دوستو
رات کافی ہو گئی ہے گھر چلے

اسلم کولسری

عمر کی دوپہر اسلم کاٹ دی

عمر کی دوپہر اسلم کاٹ دی
اپنے زخمی ہاتھ کے سائے تلے

اسلم کولسری